ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ملک میں بے روزگاری کی شرح 2016 سے اب تک کی ریکارڈ سطح پر:سی ایم آئی ای

ملک میں بے روزگاری کی شرح 2016 سے اب تک کی ریکارڈ سطح پر:سی ایم آئی ای

Wed, 06 Mar 2019 21:02:29    S.O. News Service

نئی دہلی، 06 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)عام انتخابات سے کچھ دنوں پہلے ہی حکومت کے لئے ایک تکلیف دہ خبر آئی ہے،ملک میں بے روزگاری کی شرح سال 2016 کے بعد سے اب تک ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔حکومت پہلے ہی سستے زرعی پیداوار اور روزگار میں کمی کولے کر اپوزیشن کے نشانے پر ہے۔سینٹر فارمانیٹرنگ انڈین اکنامی (سی ایم آئی ای) کی طرف سے جاری اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے۔فروری، 2019 کے دوران ملک میں بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔یہ ستمبر، 2016 کے بعد کا اب تک کی ریکارڈ سطح ہے۔فروری، 2018 میں بے روزگاری کی شرح 5.9 فیصد تھی۔سی ایم آئی ای نجی شعبے کی ایک ممتاز تھنک ٹینک ہے جس کے اعداد و شمار کافی قابل اعتماد مانے جاتے ہیں۔سی ایم آئی ای کے یہ اعداد و شمار ملک بھر میں لاکھوں خاندانوں میں کئے گئے سروے پر مبنی ہیں۔سی ایم آئی ای کے سربراہ مہیش ویاس نے ایجنسی کو بتایا کہ کام کے متلاشیوں کی تعداد میں کمی کے باوجود بے روزگاری کی شرح میں ریکارڈ برتری ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ فروری میں تقریبا 40 کروڑ لوگوں کے نوکری میں رہنے کا اندازہ ہے، جبکہ گزشتہ سال فروری میں یہ تعداد 40.6 کروڑ کے قریب تھی۔غور طلب ہے کہ اپریل سے مئی کے درمیان ملک میں لوک سبھا انتخابات ہونے ہیں، ایسے میں یہ اعداد و شمار مودی حکومت کے لئے تکلیف دہ ہو سکتے ہیں،تاہم حکومت بے روزگاری کی سطح پر اعداد و شمار جاری کرتی ہے اور حکومت نے بار بار کہا ہے کہ بے روزگاری کی شرح پیمائش کے پرانے معیار میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔گذشتہ دسمبر ماہ میں ایک اخبار کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا تھا کہ سال 2017۔18 میں بے روزگاری کی سطح 45 سال کے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔اخبار میں دعوی کیا گیا تھا کہ یہ این ایس ایس او کی لیک رپورٹ ہے۔سی ایم آئی ای کی جنوری میں جاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 2018 میں تقریبا 1.1 کروڑ لوگ بے روزگار ہو گئے،اس کے لئے 2016 میں مودی حکومت کی طرف سے کی گئی نوٹ بندي اور 2017 میں لاگو جی ایس ٹی کو ذمہ دار بتایا گیا،حکومت نے گزشتہ ماہ پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ اس کے پاس یہ اعداد و شمار نہیں ہے کہ نوٹ بندي سے ملازمتوں پر کیا اثر پڑا ہے۔

ویاس نے کہا کہ فروری میں ملازمین شرکت کی شرح 42.7 فیصد رہی، جبکہ جنوری میں یہ 43.2 فیصد تھی۔فروری، 2018 میں ورکرز شرکت کی شرح 43.8 فیصد تھی۔ورکرز شرکت کم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کام کے متلاشیوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے،اسے اور بے روزگاری کی شرح کو جوڑ دیا جائے تو مسئلہ اور گہرا جاتا ہے۔اخبار نے تب چھاپا تھا کہ نیشنل سیمپل سروے آفس کی طرف سے کئے گئے سروے کے مطابق سال 2017۔18 میں ہندوستان میں بے روزگاری کی شرح 6.1 فیصد رہی۔اس رپورٹ کے لیک ہوتے ہی کافی تنازعہ ہوا تھا اور اپوزیشن کو حملہ کرنے کا موقع ملا تھا،تاہم ابھی تک این ایس ایس او نے بے روزگاری کے اعداد و شمار جاری نہیں کیا ہے۔سی ایم آئی ای کے اندازے کے مطابق ہندوستان میں کام ایج والی آبادی ہر سال تقریبا 2.3 کروڑ بڑھتی ہے،اگر اس کے 42 سے 43 فیصد حصے کو لیبر فورس میں شامل ہونے کا اندازہ لگایا جائے تو ہر سال 96 لاکھ سے 99 لاکھ نئے لوگ لیبر فورس میں شامل کر رہے ہیں۔


Share: